زبانِ یارِ من چینی و من چینی نمی دانم. ( لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان) Sep 03, 2020

 ( لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)

میں چونکہ کوئی مذہبی سکالر نہیں ہوں اس لئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ حدیث مشہور، متواتر اور عزیز ہے یا غریب اور ضعیف ہے کہ: ”علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمہیں چین جانا پڑے“…… اس چین کے بارے میں پہلے ہمارے ادیب اور شاعر بھی لکھا کرتے تھے کہ چلنا ہو تو چین کو چلئے۔ اب اہلِ عرب کی یہ مشکل آسان ہو گئی ہے کہ حصولِ علم کی خاطر ان کو اب چین تک کا دور دراز سفر طے نہیں کرنا پڑے گا اور نہ پاکستانی شاعروں اور نثر نگاروں کے دل میں یہ ارمان مچلیں گے کہ چین چلا جائے۔ اب CPEC نے یہ مشکل آسان کر دی ہے اور چین خود چل کر پاکستان میں آ گیا ہے۔ تحصیلِ علم و دانش کی جستجو میں اب چین کا مرکزی کردار، پاکستانی شاہراہوں اور شہروں میں آکر خود خیمہ زن ہو چکا ہے۔

ایک زمانہ تھا ہم جدید سول اینڈ ملٹری ٹیکنالوجی کے لئے مغرب کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے صدقے میں امریکہ دنیا کی ایک نئی سپرپاور بن گیا تھا۔1939ء میں جب یہ جنگ شروع ہوئی تھی تو امریکہ کو کوئی پوچھتا تک نہیں تھا۔ اتحادیوں میں جرمنی کے خلاف اس وقت کے تین ”بڑے“ روس، برطانیہ اور فرانس شامل تھے اور ان سب کی افواج، امریکی سولجرز کو تُھڑدلے ٹروپس گردانتی تھیں۔ اوڈلف ہٹلر نے 1939-40ء میں پہلے برطانیہ اور فرانس کو شکست فاش دی، برطانیہ کو صرف اپنے چار جزائر (انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور آئر لینڈ) تک محدود کر دیا اور پھر 1941ء میں جرمن افواج روس پر چڑھ دوڑیں۔

روس کا مارشل سٹالن اول اول ہٹلر کے ساتھ اتحادی تھا لیکن پھر 22 جون 1941ء کو اس پر حملہ کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماسکو کے دروازوں تک جا پہنچا…… اس کے بعد کیا ہوا، یہ تاریخ ہے۔ لیکن ان تین چار برسوں میں یعنی 1941ء سے لے کر 1944ء تک دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا…… ایک عالمِ نو تخلیق ہوا۔ جرمنی کو شکست ہوئی اور دوسرے محوری ملک جاپان پر جوہری بموں کے دو حملوں نے امریکی وار ٹیکنالوجی کی برتری پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ 14ستمبر 1945ء کو جب جاپان نے امریکی جنرل میکارتھر کے سامنے ایک وار شپ پر ہتھیار ڈال دیئے تو دنیا کے بڑے بڑے عسکری مورخ انگشت بدنداں رہ گئے۔

اس دوسری عالمی جنگ نے امریکہ کو دنیا کی ایک نئی طاقتور ترین قوم بنا دیا…… جرمنی، جاپان اور اٹلی تو شکست خوردہ محوری تھے، فاتح اتحادی فریقین میں روس، فرانس اور برطانیہ کی حیثیت بھی طفلِ مکتب کی رہ گئی۔ 1945ء کے بعد برطانیہ اور فرانس وغیرہ امریکی پتنگ کا دُم چھلہ بن گئے۔ روس نے اس جنگ میں جرمنی کے خلاف لڑتے ہوئے سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھایا اور اس کا ایک ایک گاؤں، قصبہ اور شہر برباد ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود وہی ایک ایسا ملک تھا جس نے امریکہ کی ہمہ جانبی عالمی برتری کو چیلنج کیا اور بالآخر دنیا کو تسلیم کرنا پڑا کہ امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور نہیں بلکہ روس بھی اس کا ہم پلہ ہے…… امریکہ کا نام چونکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA) تھا اس لئے روس نے بھی اپنا نام ریاست ہائے متحدہ سوویٹ ری پبلکس (USSR) رکھ لیا۔ دنیا کے سارے ممالک 1945ء کے بعد ان دونوں سپرپاورز کے خوشہ چیں بن گئے۔ برطانیہ کو اپنے تمام سمندر پار مقبوضات سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اسی پراسس کے صدقے میں برصغیر بھی آزاد ہوا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک عظیم مسلم ملک بن کر نمودار ہوا۔ اب یہ ہوا کہ بجائے اس کے کہ انڈیا اور پاکستان نو آزاد ممالک ہونے کی حیثیت میں ایک دوسرے کے دوست بنتے، ایک دوسرے کے دائمی دشمن بن گئے…… وہ دن اور آج کا دن یہ ”مساوات“ قائم ہے۔



Source: https://dailypakistan.com.pk/03-Sep-2020/1178407


Comments

Popular posts from this blog

12 tips to help you lose weight

Who Are The Top 5 Video Marketers On Youtube?