پاکیزہ انسان

 مشتاق احمد یوسفی

(1923-2018)

انتخاب: ذوالفقار علی فریدی

مشتاق احمد یوسفی کو اردو زبان کا سب سے بڑا مزاح نگار سمجھا جاتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یوسفی صاحب ایک عظیم مزاح نگار ہونے کے ساتھ بہت وسیع العلم اور انسانی  نفسیات کی باریکیوں پر گہری نظر رکھنے والے دانشور بھی تھے۔ مثال کے طور پر وہ اپنی کتاب  ’چراغ تلے‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں؛



”کسی شخص کی شائستگی و شرافت کا اندازہ آپ صرف اس سے لگا سکتے ہیں کہ وہ فرصت کے لمحات میں کیا کرتا ہے اور  رات کس قسم کے خواب دیکھتا ہے۔“

 

حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک سماجی وجود ہے۔ سماج میں زندہ رہنے کے لیے انسان سماج کے معیار پر بنائے ہوئے نقاب کو پہن کر لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ مگر جب انسان تنہا ہوتا ہے تو وہ اپنے چہرے پر چڑھا ہر نقاب اتار دیتا ہے۔ پھر وہ جو کچھ کرتا ہے وہ اس کی اصل شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کے ان اندرونی احساسات کا ہوتا ہے جو بعض اوقات خواب کی شکل میں اس کے سامنے آجاتے ہیں۔ یہی اندرونی احساسات انسان کی اصل شخصیت کے ترجمان ہوتے ہیں۔ اگر انسان اپنی تنہائی میں پاکیزہ ہے، اگر انسان اپنے احساسات میں پاکیزہ ہے تب ہی وہ اپنی ذات میں ایک شریف اور پاکیزہ انسان ہے۔

 

البتہ اس ضمن میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہر انسان سے خطا بھی ہوسکتی ہے اور ہر انسان میں کچھ کمزوری بھی پائی جاسکتی ہے۔ لیکن انسان اگر اپنی خطا پر نادم ہے اور کمزوری کو دور کرنا چاہتا ہے تو پھر بھی وہ دراصل ایک پاکیزہ انسان ہی ہے۔ اس کی مخلصانہ کوشش جلد یا بدیر اسے ایک پاکیزہ انسان بنا دے گی۔ البتہ منافقت کا نقاب پہننے والے لوگ کبھی پاکیزہ نہیں ہوسکتے۔قیامت کے دن ایسے لوگوں کا نقاب اتار کر ان کی اصل شخصیت کو سب کے سامنے  بطور سزا ننگا کر دیا جائے گا۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

12 tips to help you lose weight

Who Are The Top 5 Video Marketers On Youtube?